اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ تحریک انصار اللہ یمن کے سربراہ نےاپنے ایک بیان میں علاقے کے ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ انصار اللہ سعودی عرب کے ساتھ بدستور بالواسطہ رابطے میں ہے-
تحریک انصار اللہ کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کے ساتھ بالواسطہ تعلقات ابھی تک منقطع نہیں ہوئے اور بدستور جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات ختم نہیں ہوئے اور گزشتہ دو روز کے دوران ریاض کے ساتھ بالواسطہ رابطے ہوئے ہیں۔ عبدالملک الحوثی کا کہنا تھا کہ ہم باہمی احترام اور ایک دوسرے کے داخلی امور میں عدم مداخلت کی بنیاد پر عرب اور اسلامی ملکوں کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات کے قیام کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
تحریک انصاراللہ کے سربراہ نے مذاکرات کے مقام کو صنعا سے ریاض منتقل کرنے کے بارے میں کہا کہ اقوام متحدہ کے نمائندے جمال بن عمر ریاض اور دوحہ کے اپنے حالیہ دورے کے دوران اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مذاکرات کو ریاض منتقل کرنے کے بارے میں ان ممالک کا نقطہ نظر واضح نہیں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یمن کے سیاسی گروہوں کے درمیان مذاکرات کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے مستعفی صدر عبد ربہ منصور ہادی کو تقریبا تین ارب ڈالر دیئے گئے ہیں لیکن تمام گروہوں کی جانب سے یمن میں مذاکرات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے پر اتفاق کرنے سے اس قسم کی کوششیں ناکامی سے دوچار ہوں گی۔ عبدالملک الحوثی نے یمن کو موجودہ بحران سے نکالنے اور ملک کے معاشرے کے ڈھانچے کی تعمیرنو کے لیے سنجیدہ اقدامات کی بحالی کے لیے سیاسی گروہوں کی کوششوں کو مربوط کرنے پر زور دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲